حدیث نمبر: 5390
عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَعَنْ رِجَالٍ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَالنَّبِيُّ فِي مَجْلِسٍ قَرِيبٍ مِنَ الْمَقَامِ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ لَئِنْ فَتَحَ اللَّهُ لِلنَّبِيِّ وَالْمُؤْمِنِينَ مَكَّةَ لَأُصَلِّيَنَّ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَإِنِّي وَجَدْتُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الشَّامِ هَاهُنَا فِي قُرَيْشٍ مُقْبِلًا مَعِي وَمُدْبِرًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَاهُنَا فَصَلِّ فَقَالَ الرَّجُلُ قَوْلَهُ هَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ كُلَّ ذَلِكَ يَقُولُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَاهُنَا فَصَلِّ ثُمَّ قَالَ الرَّابِعَةَ مَقَالَتَهُ هَذِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اذْهَبْ فَصَلِّ فِيهِ فَوَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ لَوْ صَلَّيْتَ هَاهُنَا لَقَضَى عَنْكَ ذَلِكَ كُلَّ صَلَاةٍ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ کچھ انصاری صحابہ سے مروی ہے کہ انصاری آدمی فتح مکہ والے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقام ابراہیم کے قریب ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام کیا اور کہا: اے اللہ کے نبی! میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اور مومنوں کو مکہ کی فتح عطا کی تو میں بیت المقدس میں جا کر نماز پڑھوں گا، اور اب مجھے اہل شام میں سے ایک آدمی مل گیا ہے، وہ میرے ساتھ جائے گا بھی سہی اور واپس بھی آئے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو یہیں نماز پڑھ لے۔ اس بندے تین بار اپنی بات دوہرائی، ہربار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی جواب دیا کہ تو یہیں نماز پڑھ لے۔ جب اس نے چوتھی دفعہ اپنی بات کو دوہرایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر چلا جا اور وہیں نماز ادا کر، اس ذات کی قسم جس نے محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو حق کے ساتھ مبعوث کیا، اگر تو یہاں نماز پڑھ لیتا تو یہ عمل تجھے بیت المقدس کی ہر نماز سے کفایت کرتا۔

وضاحت:
فوائد: … مسجد ِ حرام کی فضیلت بیت المقدس سے زیادہ ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس صحابی کو حکم دیا کہ وہ مسجد ِ حرام میں نماز ادا کر کے اپنی نذر پوری کر سکتا ہے، لیکن جب سائل نے تعنّت اور تکلّف سے کام لیتے ہوئے اپنے لیے سختی کو پسند کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس کو یہی مشکل کام کرنے کا حکم دے دیا۔ مسجد ِ اقصی، مسجد ِ حرام سے چالیس دنوں کی مسافت پر ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 5390
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه ابوداود: 3306، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23169 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23556»