الفتح الربانی
كتاب الطهارة— طہارت کے ابواب
بَابٌ فِي الِاسْتِنْجَاءِ بِالْمَاءِ وَالنَّهْيِ عَنْ مَسِّ الذَّكَرِ بِالْيَمِينِ وَالِاسْتِنْجَاءِ بِهَا باب: پانی سے استنجا کرنے کا بیان اور دائیں ہاتھ سے عضوِ خاص کو چھونے اور اس سے استنجاء کرنے سے نہی کا بیان
عَنْ عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُمْ فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ، فَقَالَ: ((إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَدْ أَحْسَنَ عَلَيْكُمُ الثَّنَاءَ فِي الطُّهُورِ فِي قِصَّةِ مَسْجِدِكُمْ، فَمَا هَذَا الطُّهُورُ الَّذِي تَطَهَّرُونَ بِهِ؟)) قَالُوا: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا نَعْلَمُ شَيْئًا إِلَّا أَنَّهُ كَانَ لَنَا جِيرَانٌ مِنَ الْيَهُودِ فَكَانُوا يَغْسِلُونَ أَدْبَارَهُمْ مِنَ الْغَائِطِ فَغَسَلْنَا كَمَا غَسَلُواسیدنا عویم بن ساعدہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس مسجد قبا میں تشریف لے گئے اور فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہاری مسجد کا ذکر کر کے طہارت کے معاملے میں تمہاری اچھی تعریف کی ہے، تو یہ کون سی پاکیزگی ہے، جو تم اختیار کرتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! اس معاملے میں کوئی چیز ہمارے علم میں تو نہیں ہے، البتہ یہ بات ضرور ہے کہ یہودی لوگ ہمارے پڑوسی تھے اور وہ پائخانہ کر کے اپنی پچھلی طرف کو دھوتے تھے، پس ہم نے بھی ان کی طرح اس حصے کو دھونا شروع کر دیا۔“
سیدنا ابو ہریرہ ؓسے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((نَزَلَتْ فِیْ اَھْلِ قُبَائَ {فِیْہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ أَنْ یَّتَطَہَّرُوْا وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُطَّہِّرِیْنَ})) … اہل قبا کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: (اس میں ایسے لوگ ہیں، جو پاکیزگی کو پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پاکیزہ رہنے والوں سے محبت کرتا ہے)۔ دراصل وہ لوگ پانی سے استنجا کرتے تھے، پس ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (ابن ماجہ:۳۵۷، ترمذی: ۳۱۰۰)
سلیم الفطرت لوگ جانتے ہیں کہ پانی اور پتھروں سے استنجاکرنے میں کیا فرق ہے، بہرحال دونوں طریقے مسنون ہیں اور پانی سے استنجا کرنا افضل ہے۔ اب اللہ تعالیٰ نے یہ سہولت عام کر دی ہے، لوگوں کو علم ہونا چاہیے کہ وہ افضل طریقہ استعمال کر رہے ہیں۔