حدیث نمبر: 539
عَنْ عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُمْ فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ، فَقَالَ: ((إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَدْ أَحْسَنَ عَلَيْكُمُ الثَّنَاءَ فِي الطُّهُورِ فِي قِصَّةِ مَسْجِدِكُمْ، فَمَا هَذَا الطُّهُورُ الَّذِي تَطَهَّرُونَ بِهِ؟)) قَالُوا: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا نَعْلَمُ شَيْئًا إِلَّا أَنَّهُ كَانَ لَنَا جِيرَانٌ مِنَ الْيَهُودِ فَكَانُوا يَغْسِلُونَ أَدْبَارَهُمْ مِنَ الْغَائِطِ فَغَسَلْنَا كَمَا غَسَلُوا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عویم بن ساعدہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس مسجد قبا میں تشریف لے گئے اور فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہاری مسجد کا ذکر کر کے طہارت کے معاملے میں تمہاری اچھی تعریف کی ہے، تو یہ کون سی پاکیزگی ہے، جو تم اختیار کرتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! اس معاملے میں کوئی چیز ہمارے علم میں تو نہیں ہے، البتہ یہ بات ضرور ہے کہ یہودی لوگ ہمارے پڑوسی تھے اور وہ پائخانہ کر کے اپنی پچھلی طرف کو دھوتے تھے، پس ہم نے بھی ان کی طرح اس حصے کو دھونا شروع کر دیا۔“

وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو ایوب انصاری، سیدنا جابر بن عبد اللہ اور سیدنا انس بن مالک سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب یہ آیت {فِیْہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ أَنْ یَّتَطَہَّرُوْا وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُطَّہِّرِیْنَ} نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یَا مَعْشَرَ الْاَنْصَارِ! اِنَّ اللّٰہَ قَدْ اَثْنٰی عَلَیْکُمْ فِیْ الطُّھُوْرِ، فَمَا طُھُوْرُکُمْ؟)) قَالُوْا: نَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاۃِ وَنَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَۃِ وَنَسْتَنْجِیْ بِالْمَائِ، قَالَ: ((فَھُوَ ذَاکَ فَعَلَیْکُمُوْہُ۔)) … اے انصاریوں کی جماعت! بیشک اللہ تعالیٰ نے طہارت کے سلسلے میں تمہاری تعریف کی ہے، پس تمہاری طہارت کیا ہے؟ انھوں نے کہا: ہم نماز کے لیے وضو کرتے ہیں، جنابت سے غسل کرتے ہیں اور پانی سے استنجا کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس وہ یہی (مؤخر الذکر) چیز ہے، تم اس کو لازم پکڑو۔ (ابن ماجہ: ۳۵۵)
سیدنا ابو ہریرہ ؓسے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((نَزَلَتْ فِیْ اَھْلِ قُبَائَ {فِیْہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ أَنْ یَّتَطَہَّرُوْا وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُطَّہِّرِیْنَ})) … اہل قبا کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: (اس میں ایسے لوگ ہیں، جو پاکیزگی کو پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پاکیزہ رہنے والوں سے محبت کرتا ہے)۔ دراصل وہ لوگ پانی سے استنجا کرتے تھے، پس ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (ابن ماجہ:۳۵۷، ترمذی: ۳۱۰۰)
سلیم الفطرت لوگ جانتے ہیں کہ پانی اور پتھروں سے استنجاکرنے میں کیا فرق ہے، بہرحال دونوں طریقے مسنون ہیں اور پانی سے استنجا کرنا افضل ہے۔ اب اللہ تعالیٰ نے یہ سہولت عام کر دی ہے، لوگوں کو علم ہونا چاہیے کہ وہ افضل طریقہ استعمال کر رہے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 539
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن لغيره ۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 17/ 348، وابن خزيمة: 83، والحاكم: 1/ 155 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15485 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15566»