الفتح الربانی
كتاب الأيمان والنذور— قسم اور نذر کے مسائل
باب النهي عَنِ النَّدْرِ وَأَنَّهُ لَا يَرُدُّ شَيْئًا مِنَ الْقَدْرِ باب: نذر ماننے سے ممانعت کا بیان اور اس چیز کی وضاحت کہ نذر تقدیر میں سے کسی چیز کو ردّ نہیں کر سکتی
حدیث نمبر: 5385
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَأْتِي النَّذْرُ عَلَى ابْنِ آدَمَ بِشَيْءٍ لَمْ أُقَدِّرْهُ عَلَيْهِ وَلَكِنَّهُ شَيْءٌ أَسْتَخْرِجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ يُؤْتِينِي عَلَيْهِ مَا لَا يُؤْتِينِي عَلَى الْبُخْلِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: نذر، ابن آدم کے حق میں وہ چیز نہیں لاتی، جو میں نے اس کے مقدّر میں نہیں لکھی ہوتی، بلکہ میں اس کے ذریعے بخیل سے مال نکال لیتا ہوں، کیونکہ وہ اس کے ذریعے مجھے وہ چیز دے دیتا ہے، جو عام حالات میں بخل کی وجہ سے نہیں دیتا۔
وضاحت:
فوائد: … بخیل آدمی نذر کی وجہ سے اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتا ہے، وگرنہ اس کا بخل اس پر غالب رہتاہے۔