الفتح الربانی
كتاب الأيمان والنذور— قسم اور نذر کے مسائل
بَاب مَا يُذْكَرُ فِيمَنْ نَذَرَ الصَّدْقَةَ بِمَالِهِ كُلِّهِ باب: اس شخص کا بیان جس نے سارا مال صدقہ کر دینے کی نذر مانی
حدیث نمبر: 5383
عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ تَعَالَى وَإِلَى رَسُولِهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمْسِكْ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ قَالَ فَقُلْتُ إِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک میری توبہ کے قبول ہونے کا تقاضا ہے کہ میں اپنے مال کے بیچ سے نکل جاؤں اور اس کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لیے صدقہ کردوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کچھ مال اپنے پاس رہنے دو، اس میں تمہارے لیے بہتری ہو گی۔ میں نے کہا: تو پھر میں وہ حصہ اپنے پاس رکھ لیتا ہوں،جو مجھے خیبر میںملا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میںنذر کی وضاحت تو نہیں ہے، لیکن جب سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے قبولیت ِ توبہ کی وجہ سے