الفتح الربانی
كتاب الأيمان والنذور— قسم اور نذر کے مسائل
بَابُ مَنْ نَذَرَ نَدْرًا مُبَاحًا أَوْ غَيْرَ مَشْرُوعٍ أَوْ لَا يُطِيقُهُ وَكَفَّارَهُ ذَلِكَ باب: مباح یا غیر مشروع یا ایسی نذر ماننے والے کا بیان، جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو اور اس کا کفارہ
حدیث نمبر: 5375
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أُخْتَ عُقْبَةَ نَذَرَتْ فِي ابْنٍ لَهَا لَتَحُجَّنَّ حَافِيَةً بِغَيْرِ خِمَارٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ تَحُجُّ رَاكِبَةً مُخْتَمِرَةً وَلْتَصُمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ کی بہن نے اپنے ایک بیٹے کے سلسلے میں نذر مانی کہ وہ ضرور ضرور ننگے پاؤں اور بغیر دو پٹے کے حج کرے گی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ سوار ہو کر حج کے لیے جائے اور دوپٹہ بھی اوڑھ لے، البتہ روزے رکھ لے۔