الفتح الربانی
كتاب الأيمان والنذور— قسم اور نذر کے مسائل
بَابُ مَنْ نَذَرَ نَدْرًا مُبَاحًا أَوْ غَيْرَ مَشْرُوعٍ أَوْ لَا يُطِيقُهُ وَكَفَّارَهُ ذَلِكَ باب: مباح یا غیر مشروع یا ایسی نذر ماننے والے کا بیان، جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو اور اس کا کفارہ
حدیث نمبر: 5373
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَأَمَرَتْنِي أَنْ أَسْتَفْتِيَ لَهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَفْتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِتَمْشِ وَلْتَرْكَبْ قَالَ وَكَانَ أَبُو الْخَيْرِ لَا يُفَارِقُ عُقْبَةَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری بہن نے بیت اللہ کی طرف پیدل چل کر جانے کی نذر مانی اور مجھے حکم دیا کہ میں اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کروں، پس جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ چل بھی سکتی ہے اور سوار بھی ہو سکتی ہے۔ ابو الخیر راوی اپنے شیخ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ سے جدا نہیں ہوتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … پہلے یہ حدیث گزر چکی ہے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حتمی طور پر پیدل چلنے والے کو سوار ہونے کا حکم دیا تھا، جبکہ اس حدیث میں پیدل چلنے اور سوار ہو جانے کا اختیار دے رہے ہیں، جمع و تطبیق کی صورت یہ ہے کہ وہ بوڑھا ہونے کی وجہ سے عاجز تھا، جبکہ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ کی بہن چلنے پر قدرت رکھتی تھی۔