الفتح الربانی
كتاب الأيمان والنذور— قسم اور نذر کے مسائل
بَابُ مَنْ نَذَرَ نَدْرًا مُبَاحًا أَوْ غَيْرَ مَشْرُوعٍ أَوْ لَا يُطِيقُهُ وَكَفَّارَهُ ذَلِكَ باب: مباح یا غیر مشروع یا ایسی نذر ماننے والے کا بیان، جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو اور اس کا کفارہ
حدیث نمبر: 5371
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَدْرَكَ شَيْخًا يَمْشِي بَيْنَ ابْنَيْهِ مُتَوَكِّئًا عَلَيْهِمَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا شَأْنُ هَذَا الشَّيْخِ قَالَ ابْنَاهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ عَلَيْهِ نَذْرٌ فَقَالَ لَهُ ارْكَبْ أَيُّهَا الشَّيْخُ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غَنِيٌّ عَنْكَ وَعَنْ نَذْرِكَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک بزرگ کو اس حال میں پایا کہ وہ اپنے دو بیٹوں کا سہارا لے کر چل رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اس بزرگ کا کیا معاملہ ہے؟ اس کے بیٹوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان پر پیدل چلنے کی نذر تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: او بزرگا! سوار ہو جا، پس بیشک اللہ تعالیٰ تجھ سے اور تیری نذر سے غنی ہے۔