الفتح الربانی
كتاب الأيمان والنذور— قسم اور نذر کے مسائل
بَابُ مَنْ نَذَرَ نَدْرًا مُبَاحًا أَوْ غَيْرَ مَشْرُوعٍ أَوْ لَا يُطِيقُهُ وَكَفَّارَهُ ذَلِكَ باب: مباح یا غیر مشروع یا ایسی نذر ماننے والے کا بیان، جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو اور اس کا کفارہ
حدیث نمبر: 5369
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً قَالَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَصْنَعُ بِشَقَاءِ أُخْتِكِ شَيْئًا لِتَخْرُجْ رَاكِبَةً وَلْتُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری بہن نے پیدل حج کرنے کی نذر مانی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تیری بہن کی بدحالی کے ساتھ کوئی معاملہ سر انجام نہیں دینا، اس کو چاہیے کہ وہ سوار ہو کر جائے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے۔
وضاحت:
فوائد: … نذر کو قسم کہنے کی وجہ یہ ہے کہ نذر ماننے والا اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے اوپر ایک چیز کو لازم کر لیتا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھانے والا کسی چیز کواپنے لیے لازم کر لیتا ہے۔