الفتح الربانی
كتاب الأيمان والنذور— قسم اور نذر کے مسائل
باب لا وَقَاءَ لِنَدْرٍ فِي مَعْصِيَّةٍ وَلَا فِيمَا لا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ باب: اس نذر کو پورا کرنا نہیں ہے، جو معصیت میں ہو یا ایسی چیز میں ہو جو ابن آدم کی ملکیت میں نہ ہو
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا يُونُسُ قَالَ نُبِّئْتُ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ جَاءَ إِلَى الْحَسَنِ فَقَالَ إِنَّ غُلَامًا لِي أَبَقَ فَنَذَرْتُ إِنْ أَنَا عَايَنْتُهُ أَنْ أَقْطَعَ يَدَهُ فَقَدْ جَاءَ فَهُوَ الْآنَ بِالْجِسْرِ قَالَ فَقَالَ الْحَسَنُ لَا تَقْطَعْ يَدَهُ وَحَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ إِنَّ عَبْدًا لِي أَبَقَ وَإِنِّي نَذَرْتُ إِنْ أَنَا عَايَنْتُهُ أَنْ أَقْطَعَ يَدَهُ قَالَ فَلَا تَقْطَعْ يَدَهُ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَؤُمُّ فِينَا أَوْ قَالَ يَقُومُ فِينَا فَيَأْمُرُنَا بِالصَّدَقَةِ وَيَنْهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ۔ سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ حسن بصری کے پاس آئے اور کہا: میرا ایک غلام بھاگ گیا تھا اور میں نے نذر مانی تھی کہ اگر میں نے اس کو دیکھ لیا تو اس کا ہاتھ کاٹ دوں گا، اب وہ آ گیا ہے اور پل کے پاس ہے، انھوں نے کہا: تم اس کا ہاتھ نہ کاٹو، کیونکہ ایک آدمی نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے کہا: بیشک میرا ایک غلام بھاگ گیا ہے اور میں نے نذر مانی ہے کہ اگر میں نے اس کو دیکھ لیا تو اس کا ہاتھ کاٹ دوں گا، انھوں نے کہا: تو اس کا ہاتھ نہ کاٹ، کیونکہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیںامامت کرواتے تھے یا ہمارے بیچ میں ٹھہرتے تھے تو ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیتے اور مثلہ سے منع کرتے تھے۔