الفتح الربانی
كتاب الطهارة— طہارت کے ابواب
بَابٌ فِي الِاسْتِنْجَاءِ بِالْمَاءِ وَالنَّهْيِ عَنْ مَسِّ الذَّكَرِ بِالْيَمِينِ وَالِاسْتِنْجَاءِ بِهَا باب: پانی سے استنجا کرنے کا بیان اور دائیں ہاتھ سے عضوِ خاص کو چھونے اور اس سے استنجاء کرنے سے نہی کا بیان
حدیث نمبر: 536
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْخَلَاءَ فَأَتَيْتُهُ بِتَوْرٍ فِيهِ مَاءٌ فَاسْتَنْجَى، ثُمَّ مَسَحَ بِيَدِهِ فِي الْأَرْضِ ثُمَّ غَسَلَهَا، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِتَوْرٍ آخَرَ فَتَوَضَّأَ بِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء میں داخل ہوئے تو میں ایک برتن لایا، اس میں پانی تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے استنجا کیا، اس کے بعد اپنے ہاتھ کو زمین پر رگڑا اور پھر دھو دیا، پھر میں ایک اور برتن لے کر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وضو کیا۔
وضاحت:
فوائد: … تَوْر: یہ تانبے یا پتھر سے بنا ہوا برتن ہوتا ہے، اس کو کھانے پینے اور وضو کے لیے بنایا جاتا ہے۔