الفتح الربانی
كتاب الأيمان والنذور— قسم اور نذر کے مسائل
بَابُ النَّدْرِ فِي طَاعَةِ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ وَوُجُوبِ الْوَفَاءِ بِهِ سَوَاءٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَالْإِسْلَامِ باب: اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مانی گئی نذر کا اور اس کو پورا کرنے کے وجوب کا بیان،¤وہ جاہلیت میں مانی گئی ہو یا اسلام میں
حدیث نمبر: 5359
عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ كَرْدَمٍ عَنْ أَبِيهَا كَرْدَمِ بْنِ سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَذْرٍ نُذِرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلِوَثَنٍ أَوْ لِنُصُبٍ قَالَ لَا وَلَكِنْ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ فَأَوْفِ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مَا جَعَلْتَ لَهُ انْحَرْ عَلَى بُوَانَةَ وَأَوْفِ بِنَذْرِكَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا کردم بن سفیان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جاہلیت میں مانی گئی نذر کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا وہ کسی بت یا پتھر کے لیے تو نہیں تھی؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، بلکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کے لیے تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اللہ تعالیٰ کے لیے پورا کرو، جو کچھ تم نے مقرر کیا ہے، اس کو بوانہ پر نحر کرو اور اس طرح اپنی نذر پوری کرو۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ کے نام پر ذبح کرنے کی نذر قابل تعریف ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ محمود نذر کے لیے مقام کا تعین کیا جا سکتا ہے، لیکن وہ کوئی ایسی جگہ نہ ہو جس سے مشرکوں سے کوئی مشابہت لازم آتی ہو۔