الفتح الربانی
كتاب الأيمان والنذور— قسم اور نذر کے مسائل
بَابُ النَّدْرِ فِي طَاعَةِ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ وَوُجُوبِ الْوَفَاءِ بِهِ سَوَاءٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَالْإِسْلَامِ باب: اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مانی گئی نذر کا اور اس کو پورا کرنے کے وجوب کا بیان،¤وہ جاہلیت میں مانی گئی ہو یا اسلام میں
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مِقْسَمٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي سَارَةُ بِنْتُ مِقْسَمٍ عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ كَرْدَمٍ أَنَّ أَبَاهَا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَذْبَحَ عَدَدًا مِنَ الْغَنَمِ قَالَ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ خَمْسِينَ شَاةً عَلَى رَأْسِ بُوَانَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَلْ عَلَيْهَا مِنْ هَذِهِ الْأَوْثَانِ شَيْءٌ قَالَ لَا قَالَ فَأَوْفِ لِلَّهِ بِمَا نَذَرْتَ لَهُ قَالَتْ فَجَمَعَهَا أَبِي فَجَعَلَ يَذْبَحُهَا وَانْفَلَتَتْ مِنْهُ شَاةٌ فَطَلَبَهَا وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ أَوْفِ عَنِّي بِنَذْرِي حَتَّى أَخَذَهَا فَذَبَحَهَا۔ سیدنا کردم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی کہ میں نے بوانہ مقام پر پچاس بکریاں ذبح کرنے کی نذر مانی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا وہاں ان بتوں میں سے کوئی بت ہے؟ میںنے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم نے اللہ تعالیٰ کے لیے جو نذر مانی ہے، اس کو اس کے لیے پورا کرو۔ پس انھوں نے بکریاں جمع کر کے ان کو ذبح کرنا شروع کیا، ایک بکری بھاگ گئی، وہ اس کو پکڑنے کے لیے اس کے پیچھے دوڑنے لگے اور اس دوران وہ یہ کہہ رہے تھے: اے اللہ! میری نذر پوری کر دے، یہاں تک کہ انھوں نے اس کو پکڑ لیا اور ذبح کر دیا۔