الفتح الربانی
كتاب الأيمان والنذور— قسم اور نذر کے مسائل
بَابُ النَّدْرِ فِي طَاعَةِ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ وَوُجُوبِ الْوَفَاءِ بِهِ سَوَاءٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَالْإِسْلَامِ باب: اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مانی گئی نذر کا اور اس کو پورا کرنے کے وجوب کا بیان،¤وہ جاہلیت میں مانی گئی ہو یا اسلام میں
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنِ ابْنَةِ كَرْدَمَةَ عَنْ أَبِيهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ ثَلَاثَةً مِنْ إِبِلِي فَقَالَ إِنْ كَانَ عَلَى جَمْعٍ مِنْ جَمْعِ الْجَاهِلِيَّةِ أَوْ عَلَى عِيدٍ مِنْ أَعْيَادِ الْجَاهِلِيَّةِ أَوْ عَلَى وَثَنٍ فَلَا وَإِنْ كَانَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ فَاقْضِ نَذْرَكَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلَى أُمِّ هَذِهِ الْجَارِيَةِ مَشْيًا أَفَتَمْشِي عَنْهَا قَالَ نَعَمْ۔ بنت ِ کردمہ اپنے باپ سے روایت کرتی ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سوال کیا: میں نے تین اونٹ نحر کرنے کی نذر مانی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اس نذر کا تعلق جاہلیت کے کسی اکٹھ یا جاہلیت کی کسی عید کی مناسبت سے ہے یا کسی بت پر ہے تو اس کو پورا نہیں کیا جائے گا، اگر ان تین امور کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے ہے تو تواپنی نذر پوری کر۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس لڑکی کی ماں پر پیدل چلنے کی نذر ہے، کیا یہ لڑکی اس کی طرف سے چل سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔