حدیث نمبر: 5357
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنِ ابْنَةِ كَرْدَمَةَ عَنْ أَبِيهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ ثَلَاثَةً مِنْ إِبِلِي فَقَالَ إِنْ كَانَ عَلَى جَمْعٍ مِنْ جَمْعِ الْجَاهِلِيَّةِ أَوْ عَلَى عِيدٍ مِنْ أَعْيَادِ الْجَاهِلِيَّةِ أَوْ عَلَى وَثَنٍ فَلَا وَإِنْ كَانَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ فَاقْضِ نَذْرَكَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلَى أُمِّ هَذِهِ الْجَارِيَةِ مَشْيًا أَفَتَمْشِي عَنْهَا قَالَ نَعَمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ بنت ِ کردمہ اپنے باپ سے روایت کرتی ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سوال کیا: میں نے تین اونٹ نحر کرنے کی نذر مانی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اس نذر کا تعلق جاہلیت کے کسی اکٹھ یا جاہلیت کی کسی عید کی مناسبت سے ہے یا کسی بت پر ہے تو اس کو پورا نہیں کیا جائے گا، اگر ان تین امور کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے ہے تو تواپنی نذر پوری کر۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس لڑکی کی ماں پر پیدل چلنے کی نذر ہے، کیا یہ لڑکی اس کی طرف سے چل سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔

وضاحت:
فوائد: … جاہلیت کے اکٹھ سے مراد لوگوں کا جاہلیت کے رسم و رواج کے مطابق لہوو لعب کا اہتمام کرنا ہے،بت اور جاہلیت کی عید کے بارے میں مسئلہ ایسے ہی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 5357
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، عمرو بن شعيب لم يسمع من ابنة كردمة، أخرجه ابوداود: 3315، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23196 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23583»