الفتح الربانی
كتاب الأيمان والنذور— قسم اور نذر کے مسائل
بَابُ النَّدْرِ فِي طَاعَةِ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ وَوُجُوبِ الْوَفَاءِ بِهِ سَوَاءٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَالْإِسْلَامِ باب: اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مانی گئی نذر کا اور اس کو پورا کرنے کے وجوب کا بیان،¤وہ جاہلیت میں مانی گئی ہو یا اسلام میں
حدیث نمبر: 5356
عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكِفَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ لَيْلَةً فَقَالَ لَهُ فَأَوْفِ بِنَذْرِكَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں دورِ جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ میں مسجد حرام میں ایک رات اعتکاف کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی نذر کو پورا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … اعتکاف کے لیے نہ ماہِ رمضان ضروری ہے، نہ زیادہ ایام، اعتکاف کی درج ذیل تعریف پر غور کریں: