حدیث نمبر: 5355
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ نَاقَتِي وَكَيْتَ وَكَيْتَ قَالَ أَمَّا نَاقَتُكَ فَانْحَرْهَا وَأَمَّا كَيْتَ وَكَيْتَ فَمِنَ الشَّيْطَانِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں نے اپنی اونٹنی کو نحر کرنے کی اور ایسی ایسی چیز وں کی نذر مانی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رہا مسئلہ تیری اونٹنی کا تو اس کو تو نحر کر دے اور رہا مسئلہ ایسی ایسی چیزوں کا تو وہ شیطان کی طرف سے ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … ممکن ہے کہ ایسی ایسی چیزوں سے مراد معصیت پر مشتمل کوئی نذر ہو یا ایسی نذر ہو جس کا ذکر کرنا مناسب نہ ہو، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو شیطان کی طرف منسوب کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 5355
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف جابر بن يزيد الجعفي، وعلي بن حسين لم يدرك جده علي بن ابي طالب ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 688 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 688»