الفتح الربانی
كتاب الأيمان والنذور— قسم اور نذر کے مسائل
بَابُ النَّدْرِ فِي طَاعَةِ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ وَوُجُوبِ الْوَفَاءِ بِهِ سَوَاءٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَالْإِسْلَامِ باب: اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مانی گئی نذر کا اور اس کو پورا کرنے کے وجوب کا بیان،¤وہ جاہلیت میں مانی گئی ہو یا اسلام میں
حدیث نمبر: 5354
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ جَلَّ وَعَزَّ فَلْيُطِعْهُ وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ جَلَّ وَعَزَّ فَلَا يَعْصِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے کی نذر مانی تو وہ اس کی اطاعت کرے اور جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے کی نذر مانی تو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے۔
وضاحت:
فوائد: … نافرمانی ہر حال میں بہت بری ہے اور نذر مان کر نافرمانی کرنا مزید قبیح ہے، نذر ماننے سے کوئی برائی نیکی نہیں بن سکتی، لہذا نذر کے بہانے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنا جائز نہ ہو گا، بلکہ مزید گناہ ہو گا، اس لیے نافرمانی کی نذر پوری نہ کی جائے، بلکہ اس کا کفارہ دے دیا جائے۔