الفتح الربانی
كتاب الأيمان والنذور— قسم اور نذر کے مسائل
بَابُ الْيَمِينِ فِي قَطِيعَةِ الرَّحِمِ وَمَا لَا يَمْلِكُ باب: قطع رحمی اور غیر ملکیتی چیز کے بارے میں قسم اٹھا لینے کا بیان
حدیث نمبر: 5353
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا نَذْرَ لِابْنِ آدَمَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ وَلَا عِتْقَ لِابْنِ آدَمَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ وَلَا طَلَاقَ لَهُ فِيمَا لَا يَمْلِكُ وَلَا يَمِينَ فِيمَا لَا يَمْلِكُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم جس چیز کا مالک نہ ہو، اس کے لیے اس میں کوئی نذر نہیں، ابن آدم کے لیے اس کی کوئی آزادی نہیں، جس کا وہ مالک نہ ہو، اس میں اس کی کوئی طلاق نہیں، جس کا وہ مالک نہ ہو اور اس چیز میں کوئی قسم نہیں، جس کا وہ مالک نہ ہو۔
وضاحت:
فوائد: … یعنی ایسی قسم کو پورا کرنا لازمی نہیں ہو گا، البتہ جمہور اہل علم کی رائے کے مطابق اس کو کفارۂ قسم ادا کرنا پڑے گا۔