حدیث نمبر: 5351
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَاَنْ يَلَجَّ أَحَدُكُمْ بِيَمِينِهِ فِي أَهْلِهِ أَثَمُ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ أَنْ يُعْطِيَ كَفَّارَتَهُ الَّتِي فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! جب کوئی آدمی اپنے اہل کے معاملہ میں کوئی قسم اٹھاتا ہے اور (اس قسم کے بہانے اڑا رہتا ہے) تو وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس سے زیادہ گنہگار ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا فرض کیا ہوا کفارہ ادا کر دے۔

وضاحت:
فوائد:حافظ ابن حجر نے کہا: آثَم کا معنی اشدّ تأثیما ہے …۔ اس حدیث کا معنی و مفہوم یہ ہے کہ جو آدمی اپنے اہل و عیال سے متعلقہ ایسی قسم اٹھاتا ہے کہ اس کو پورا کرنے کی صورت میں ان کو تکلیف ہوتی ہے، تو اسے چاہیے کہ وہ اس قسم کو توڑ دے اور اس کا کفارہ ادا کر دے۔ اگر وہ کہے کہ وہ گناہ سے بچنے کے لیے قسم نہیں توڑے گا، تو وہ گنہگار ہو گا، بلکہ اس کا ایسی قسم پر برقرار رہنے اور اپنے اہل کے لیے تکلیف کا باعث بننے کا گناہ قسم توڑنے سے زیادہ ہو گا … بیضاوی نے کہا: اس حدیث کا مرادی معنی یہ ہے کہ جب آدمی اپنے اہل سے متعلقہ امور میں قسم اٹھاتا ہے اور پھر اس پر ڈٹ جاتا ہے (اور یہ نہیں دیکھتا کہ اس کے اہل کو اس قسم کی وجہ سے کتنی تکلیف ہو رہی ہے تو) اس کا یہ گناہ قسم توڑنے کے گناہ سے زیادہ ہو گا، کیونکہ اس نے اپنی قسم کو پورا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے نام کو حیلہ بنا لیا ہے، حالانکہ اس سے منع کیا گیا ہے۔(فتح الباری: ۱۱/۶۳۷)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 5351
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8193»