الفتح الربانی
كتاب الأيمان والنذور— قسم اور نذر کے مسائل
بَابُ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِيْنِ فَرَأَى خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلَيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ باب: جو آدمی کسی چیز پر قسم اٹھائے، لیکن جب دیکھے کہ زیادہ بہتری دوسری چیز میں ہے تو وہ بہتر چیز کو اختیار کرے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَا مُوسَى اسْتَحْمَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَافَقَ مِنْهُ شُغْلًا فَقَالَ وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكَ فَلَمَّا قَفَّى دَعَاهُ فَحَمَلَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ حَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنِي قَالَ فَأَنَا أَحْلِفُ لَأَحْمِلَنَّكَ۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سواری کا سوال کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مصروف پایا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تم کو سواریاں نہیں دوں گا۔ جب وہ جانے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بلایا اور سواری دے دی، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے تو قسم اٹھائی تھی کہ آپ مجھے سواری نہیں دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس میں قسم اٹھاتا ہوں کہ تم کو ضرور ضرور سواری دوں گا۔