الفتح الربانی
كتاب الأيمان والنذور— قسم اور نذر کے مسائل
بَابُ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِيْنِ فَرَأَى خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلَيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ باب: جو آدمی کسی چیز پر قسم اٹھائے، لیکن جب دیکھے کہ زیادہ بہتری دوسری چیز میں ہے تو وہ بہتر چیز کو اختیار کرے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے
عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِيهِ مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَا تَدْعُو قَالَ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى الرَّحِمِ قُلْتُ يَأْتِينِي الرَّجُلُ مِنْ بَنِي عَمِّي فَأَحْلِفُ أَنْ لَا أُعْطِيَهُ ثُمَّ أُعْطِيهِ قَالَ فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ وَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ عَبْدَانِ أَحَدُهُمَا يُطِيعُكَ وَلَا يَخُونُكَ وَلَا يَكْذِبُكَ وَالْآخَرُ يَخُونُكَ وَيَكْذِبُكَ قَالَ قُلْتُ لَا بَلِ الَّذِي لَا يَخُونُنِي وَلَا يَكْذِبُنِي وَيَصْدُقُنِي الْحَدِيثَ أَحَبُّ إِلَيَّ قَالَ كَذَاكُمْ أَنْتُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ۔ سیدنا مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: آپ کس چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اور صلہ رحمی کی طرف۔ میں نے کہا: میرا ایک چچا زاد میرے پاس آتا ہے اور میں قسم اٹھا لیتا ہوں کہ میں اس کو کچھ نہیں دوں گا، پھر میں اس کو کچھ دے دیتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اپنی قسم کا کفارہ دے اور بہتر چیز کو اختیار کر، توخود غور کر کہ اگر تیرے دو غلام ہوں، ان میں اے ایک غلام تیری اطاعت کرتا ہو، تجھ سے خیانت نہ کرتا ہو اور نہ تجھ سے جھوٹ بولتا ہو، جبکہ دوسرا غلام خیانت کرتا ہو اور جھوٹ بولتا ہو۔ میںنے کہا: نہیں، بلکہ وہی جو خیانت نہیں کرتا اور جھوٹ نہیں بولتا اور سچی بات کرتا ہے، وہ مجھے زیادہ پسند ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم بھی اپنے ربّ کے ہاں ایسے ہی ہو۔