الفتح الربانی
كتاب الأيمان والنذور— قسم اور نذر کے مسائل
بَابُ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِيْنِ فَرَأَى خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلَيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ باب: جو آدمی کسی چیز پر قسم اٹھائے، لیکن جب دیکھے کہ زیادہ بہتری دوسری چیز میں ہے تو وہ بہتر چیز کو اختیار کرے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے
حدیث نمبر: 5340
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَتَرْكُهَا كَفَّارَتُهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی چیز پر قسم اٹھائی، لیکن پھر اس نے دیکھا کہ دوسری چیز اس سے بہتر ہے تو اس پہلی چیز کو نہ کرنا ہی اس قسم کا کفارہ ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … تمام احادیث ِ صحیحہ میں ایسی صورت میں قسم کا کفارہ دینے کا حکم دیا گیا ہے، جیسا امام ابوداود نے یہ حدیث ذکر کرنے کے بعد کہا: الأحادیث کلھا عن النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((ولیکفر عن یمینہ)) الا فیما لا یعبأ بہ۔ … تمام احادیث یہی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی اپنی قسم کا کفارہ دے۔ ما سوائے غیر معتبر روایات کے۔