الفتح الربانی
كتاب الأيمان والنذور— قسم اور نذر کے مسائل
بَابُ الْأمْرِ بِأَبْرَارِ الْمُقْسَمِ وَالرُّحْصَةِ فِي تَرْكِهِ لِلْعُدْرِ وَمَنْ كَذَّبَ بَصَرَهُ وَصَدَّقَ الْحَالِفَ باب: قسم اٹھانے والی کی قسم کو پورا کرنے اور عذر کی بنا پر اس کو پورا نہ کرنے کی رخصت کا اور¤نیز اس شخص کا بیان جو اپنی نظر کو جھٹلا دے اور قسم اٹھانے والے کی تصدیق کرے
حدیث نمبر: 5337
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ رَجُلًا يَسْرِقُ فَقَالَ لَهُ عِيسَى سَرَقْتَ قَالَ كَلَّا وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ قَالَ عِيسَى آمَنْتُ بِاللَّهِ وَكَذَّبْتُ عَيْنِيترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے ایک آدمی کو چوری کرتے ہوئے دیکھا اور پھر اس سے کہا: تو نے چوری کی ہے؟ اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے! میں ہر گز چوری نہیں کی۔ یہ سن کر عیسیٰ علیہ السلام نے کہا: میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہوں اور اپنی آنکھ کو جھٹلاتا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … جب اس آدمی نے اللہ تعالیٰ کی ذات کا وسیلہ دیتے ہوئے انکار کیا تو عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے نام کی تعظیم کرتے ہوئے اس کی تصدیق کر دی۔