الفتح الربانی
كتاب الأيمان والنذور— قسم اور نذر کے مسائل
بَابُ الْأمْرِ بِأَبْرَارِ الْمُقْسَمِ وَالرُّحْصَةِ فِي تَرْكِهِ لِلْعُدْرِ وَمَنْ كَذَّبَ بَصَرَهُ وَصَدَّقَ الْحَالِفَ باب: قسم اٹھانے والی کی قسم کو پورا کرنے اور عذر کی بنا پر اس کو پورا نہ کرنے کی رخصت کا اور¤نیز اس شخص کا بیان جو اپنی نظر کو جھٹلا دے اور قسم اٹھانے والے کی تصدیق کرے
حدیث نمبر: 5336
عَنْهُ أَيْضًا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَقْسَمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تُقْسِمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قسم اٹھائی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: قسم نہ اٹھاؤ۔