حدیث نمبر: 5335
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي حَدِيثِ رُؤْيَا أَعْبَرَهَا أَيْ فَسَّرَهَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمَامَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ بَعْدَ تَعْبِيرِهَا أَصَبْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَصَبْتَ وَأَخْطَأْتَ قَالَ أَقْسَمْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَتُخْبِرَنِّي فَقَالَ لَا تُقْسِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، یہ ایک خواب سے متعلقہ حدیث تھی، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس کی تعبیربیان کی اور پھر کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں نے درست تعبیر بیان کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے بعض پہلو درست بیان کیے ہیں اور بعض میں غلطی کی ہے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں قسم اٹھاتا ہوں کہ آپ ضرور ضرور مجھے میری غلطی پر آگاہ کریں گے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قسم نہ اٹھاؤ۔

وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی قسم پوری نہیں کی، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح کی قسم کو پورا کرنے کی ترغیب دلائی ہے۔ جمع و تطبیق کی یہ صورت ہے کہ کسی مانع اور مصلحت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس قسم کو پورا نہیں کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 5335
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 7000، 7046، ومسلم: 2269، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2113 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2113»