الفتح الربانی
كتاب الأيمان والنذور— قسم اور نذر کے مسائل
بَابُ الْأمْرِ بِأَبْرَارِ الْمُقْسَمِ وَالرُّحْصَةِ فِي تَرْكِهِ لِلْعُدْرِ وَمَنْ كَذَّبَ بَصَرَهُ وَصَدَّقَ الْحَالِفَ باب: قسم اٹھانے والی کی قسم کو پورا کرنے اور عذر کی بنا پر اس کو پورا نہ کرنے کی رخصت کا اور¤نیز اس شخص کا بیان جو اپنی نظر کو جھٹلا دے اور قسم اٹھانے والے کی تصدیق کرے
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي حَدِيثِ رُؤْيَا أَعْبَرَهَا أَيْ فَسَّرَهَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمَامَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ بَعْدَ تَعْبِيرِهَا أَصَبْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَصَبْتَ وَأَخْطَأْتَ قَالَ أَقْسَمْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَتُخْبِرَنِّي فَقَالَ لَا تُقْسِمْ۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، یہ ایک خواب سے متعلقہ حدیث تھی، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس کی تعبیربیان کی اور پھر کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں نے درست تعبیر بیان کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے بعض پہلو درست بیان کیے ہیں اور بعض میں غلطی کی ہے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں قسم اٹھاتا ہوں کہ آپ ضرور ضرور مجھے میری غلطی پر آگاہ کریں گے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قسم نہ اٹھاؤ۔