الفتح الربانی
كتاب الأيمان والنذور— قسم اور نذر کے مسائل
بَابُ الْأمْرِ بِأَبْرَارِ الْمُقْسَمِ وَالرُّحْصَةِ فِي تَرْكِهِ لِلْعُدْرِ وَمَنْ كَذَّبَ بَصَرَهُ وَصَدَّقَ الْحَالِفَ باب: قسم اٹھانے والی کی قسم کو پورا کرنے اور عذر کی بنا پر اس کو پورا نہ کرنے کی رخصت کا اور¤نیز اس شخص کا بیان جو اپنی نظر کو جھٹلا دے اور قسم اٹھانے والے کی تصدیق کرے
حدیث نمبر: 5334
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ قَالَ فَذَكَرَ مَا أَمَرَهُمْ مِنْ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ وَرَدِّ السَّلَامِ وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ الْحَدِيثَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا اور سات سے منع کیا، پھر انھوں نے ان امور کا ذکر کیا، جن کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا تھا، ان میں سے بعض امور تھے: مریض کی تیمارداری کرنا، جنازوں کے پیچھے چلنا، چھینکنے والے کو یَرْحَمُکَ اللّٰہ کہنا، سلام کا جواب دینا اور قسم اٹھانے والے کی قسم پورا کرنا، … ۔