الفتح الربانی
كتاب الأيمان والنذور— قسم اور نذر کے مسائل
بَابُ الْأمْرِ بِأَبْرَارِ الْمُقْسَمِ وَالرُّحْصَةِ فِي تَرْكِهِ لِلْعُدْرِ وَمَنْ كَذَّبَ بَصَرَهُ وَصَدَّقَ الْحَالِفَ باب: قسم اٹھانے والی کی قسم کو پورا کرنے اور عذر کی بنا پر اس کو پورا نہ کرنے کی رخصت کا اور¤نیز اس شخص کا بیان جو اپنی نظر کو جھٹلا دے اور قسم اٹھانے والے کی تصدیق کرے
حدیث نمبر: 5333
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ أَهْدَتْ إِلَيْهَا امْرَأَةٌ تَمْرًا فِي طَبَقٍ فَأَكَلَتْ بَعْضًا وَبَقِيَ بَعْضٌ فَقَالَتْ أَقْسَمْتُ عَلَيْكِ إِلَّا أَكَلْتِ بَقِيَّتَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبِرِّيهَا فَإِنَّ الْإِثْمَ عَلَى الْمُحَنِّثِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، ایک خاتون نے ان کی طرف ایک تھال میں کچھ کھجوریں بھیجیں، اس (عائشہ) نے کچھ کھجوریں کھالی اور کچھ بچ گئیں، لیکن اس خاتون نے مجھے کہا: میں تجھ پر قسم اٹھاتی ہوں کہ تو باقی کھجوریں بھی کھائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی قسم کو پورا کر دے، کیونکہ گناہ اس پر ہوتا ہے، جو قسم توڑنے کا سبب بنتا ہے۔