الفتح الربانی
كتاب الأيمان والنذور— قسم اور نذر کے مسائل
بَابُ مَنْ حَلَفَ كَاذِبًا وَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ باب: اس شخص کا بیان جس نے جھوٹی قسم اٹھائی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو معاف کر دیا
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ اخْتَصَمَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ فَوَقَعَتِ الْيَمِينُ عَلَى أَحَدِهِمَا فَحَلَفَ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ مَا لَهُ عِنْدَهُ شَيْءٌ قَالَ فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّهُ كَاذِبٌ إِنَّ لَهُ عِنْدَهُ حَقَّهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ حَقَّهُ وَكَفَّارَةُ يَمِينِهِ مَعْرِفَتُهُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَوْ شَهَادَتُهُ۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ دو آدمی اپنا جھگڑا لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، فیصلہ میں ایک آدمی کو قسم اٹھانا پڑ گئی، اس نے اس اللہ کی قسم اٹھائی کہ جس کے علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں ہے کہ اس آدمی کی اس کے پاس کوئی چیز نہیں ہے۔ اُدھر جبریل علیہ السلام ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آگئے اور کہا: یہ آدمی جھوٹا ہے، اس کے پاس اس کا حق ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو حکم دیا کہ وہ اس کو اس کا حق ادا کرے اور اس کی قسم کا کفارہ اس کی یہ معرفت یا شہادت ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے۔