حدیث نمبر: 5330
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ اخْتَصَمَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ فَوَقَعَتِ الْيَمِينُ عَلَى أَحَدِهِمَا فَحَلَفَ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ مَا لَهُ عِنْدَهُ شَيْءٌ قَالَ فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّهُ كَاذِبٌ إِنَّ لَهُ عِنْدَهُ حَقَّهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ حَقَّهُ وَكَفَّارَةُ يَمِينِهِ مَعْرِفَتُهُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَوْ شَهَادَتُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ دو آدمی اپنا جھگڑا لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، فیصلہ میں ایک آدمی کو قسم اٹھانا پڑ گئی، اس نے اس اللہ کی قسم اٹھائی کہ جس کے علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں ہے کہ اس آدمی کی اس کے پاس کوئی چیز نہیں ہے۔ اُدھر جبریل علیہ السلام ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آگئے اور کہا: یہ آدمی جھوٹا ہے، اس کے پاس اس کا حق ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو حکم دیا کہ وہ اس کو اس کا حق ادا کرے اور اس کی قسم کا کفارہ اس کی یہ معرفت یا شہادت ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے۔

وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ بسااوقات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وحی کی روشنی میں بھی فیصلہ کر لیا کرتے تھے۔ جھوٹی قسم کبیرہ گنا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کا یہ کبیرہ گناہ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کی معرفت کی برکت کی وجہ سے معاف کر دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 5330
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2695 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2695»