الفتح الربانی
كتاب الأيمان والنذور— قسم اور نذر کے مسائل
بَابُ التَّعْلِيظِ فِي الْيَمِينِ الْفَاجِرَةِ وَتَعْظِيمِهَا عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم باب: جھوٹی قسم کے بارے میں سختی کا اور منبر نبوی پر اس قسم کے بڑا جرم ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 5327
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ يَحْلِفُ عِنْدَ هَذَا الْمِنْبَرِ عَلَى يَمِينٍ آثِمَةٍ وَلَوْ عَلَى سِوَاكٍ رَطْبٍ إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ النَّارُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو مر د و زن میرے اس منبر کے پاس جھوٹی قسم اٹھائے گا، اگرچہ وہ تر مسواک پر قسم اٹھا رہا ہو، اس کے لیے آگ واجب ہو جائے گی۔
وضاحت:
فوائد: … زیادہ حرمت کو ثابت کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منبر کو مخصوص کیا گیا ہے، کیونکہ وہ سب سے زیادہ شرف والی جگہ ہے، جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا بَیْنَ بَیْتِی وَ مِنْبَرِیْ رَوْضَۃٌ مِنْ رِیَاضِ الْجَنَّۃِ، وَمِنْبَرِی عَلٰی حَوْضِی۔)) … میرے گھر اور میرے منبر کی درمیانی جگہ جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے اور میرا منبر تو میرے حوض پر ہوگا۔ (صحیح بخاری: ۷۳۳۵، صحیح مسلم: ۳۱۹۱)