الفتح الربانی
كتاب الأيمان والنذور— قسم اور نذر کے مسائل
بَابُ التَّعْلِيظِ فِي الْيَمِينِ الْفَاجِرَةِ وَتَعْظِيمِهَا عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم باب: جھوٹی قسم کے بارے میں سختی کا اور منبر نبوی پر اس قسم کے بڑا جرم ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 5324
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْيَمِينُ الْكَاذِبَةُ مُنْفِقَةٌ لِلسِّلْعَةِ مُمْحِقَةٌ لِلْكَسْبِ وَفِي لَفْظٍ لِلْبَرَكَةِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جھوٹی قسم، مال کو تو بیچنے والی ہوتی ہے، لیکن کمائی کی برکت کو مٹا دیتی ہے۔ ‘
وضاحت:
فوائد: … جو آدمی سودا کرتے وقت کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی تعظیم کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔ اسے اس سودے سے کمائی ہوئی دولت کے بارے میں کیا امید ہونی چاہیے؟ اس کا فیصلہ ہر ذی شعور کر سکتا ہے۔