الفتح الربانی
كتاب الأيمان والنذور— قسم اور نذر کے مسائل
بَابُ التَّعْلِيظِ فِي الْيَمِينِ الْفَاجِرَةِ وَتَعْظِيمِهَا عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم باب: جھوٹی قسم کے بارے میں سختی کا اور منبر نبوی پر اس قسم کے بڑا جرم ہونے کا بیان
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ بِنَحْوِهِ وَزَادَ قَالَ فَخَرَجَ الْأَشْعَثُ وَهُوَ يَقْرَؤُهَا قَالَ فِيَّ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ إِنَّ رَجُلًا ادَّعَى رَكِيًّا لِي فَاخْتَصَمْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ شَاهِدَاكَ أَوْ يَمِينُهُ فَقُلْتُ أَمَا إِنَّهُ إِنْ حَلَفَ حَلَفَ فَاجِرًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ صَبْرًا يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالًا لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ یہ الفاظ زائد ہیں: سیدنا اشعث رضی اللہ عنہ اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے نکلے اور کہا: یہ آیت میرے بارے میںنازل ہوئی ہے اور وہ اس طرح کہ ایک آدمی نے میرے کنویں کا دعوی کر دیا، پس ہم جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تیرے دو گواہ ، یا اس کی قسم؟ میں نے کہا: اگر اس نے قسم اٹھائی تو یہ جھوٹی قسم اٹھائے گا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے اپنے آپ کو کسی کے مال کا مستحق ثابت کرنے کے لیے حاکم کے پاس قسم اٹھائی، وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر ناراض ہو گا۔