حدیث نمبر: 5321
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ بِنَحْوِهِ وَزَادَ قَالَ فَخَرَجَ الْأَشْعَثُ وَهُوَ يَقْرَؤُهَا قَالَ فِيَّ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ إِنَّ رَجُلًا ادَّعَى رَكِيًّا لِي فَاخْتَصَمْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ شَاهِدَاكَ أَوْ يَمِينُهُ فَقُلْتُ أَمَا إِنَّهُ إِنْ حَلَفَ حَلَفَ فَاجِرًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ صَبْرًا يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالًا لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ یہ الفاظ زائد ہیں: سیدنا اشعث رضی اللہ عنہ اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے نکلے اور کہا: یہ آیت میرے بارے میںنازل ہوئی ہے اور وہ اس طرح کہ ایک آدمی نے میرے کنویں کا دعوی کر دیا، پس ہم جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تیرے دو گواہ ، یا اس کی قسم؟ میں نے کہا: اگر اس نے قسم اٹھائی تو یہ جھوٹی قسم اٹھائے گا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے اپنے آپ کو کسی کے مال کا مستحق ثابت کرنے کے لیے حاکم کے پاس قسم اٹھائی، وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر ناراض ہو گا۔

وضاحت:
فوائد: … یَمِیْنُ الصَّبْر: اس جھوٹی قسم کو کہتے ہیں، جو آدمی جان بوجھ کر اٹھاتا ہے اور اس کا ارادہ مسلمان کا مال ہتھیا لینا ہوتا ہے۔اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ وہ اپنے نفس کو اس قسم پر پابند کرتا ہے یا حاکم، قاضی کے پاس اسے روکا جاتا ہے کیونکہ صبر کا اصل معنی روکنا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 5321
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22185»