الفتح الربانی
كتاب الأيمان والنذور— قسم اور نذر کے مسائل
بَابُ التَّعْلِيظِ فِي الْيَمِينِ الْفَاجِرَةِ وَتَعْظِيمِهَا عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم باب: جھوٹی قسم کے بارے میں سختی کا اور منبر نبوی پر اس قسم کے بڑا جرم ہونے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ وَقَرَأَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِصْدَاقَهُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ} [آل عمران: 77]۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مسلمان کا مال ہتھیا لینے کے لیے قسم اٹھائی وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میںملے گا کہ وہ اس پر ناراض ہو گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے فرمان کے مطابق اللہ تعالیٰ کی کتاب سے اس آیت کی تلاوت کی: {إِنَّ الَّذِینَ یَشْتَرُونَ بِعَہْدِ اللّٰہِ … … لَہُمْ فِی الْآخِرَۃِ وَلَا یُکَلِّمُہُمُ اللّٰہُ} … جو لوگ اللہ تعالیٰ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت کے عوض بیچ ڈالتے ہیں، ایسے لوگوں کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا اور نہ اللہ تعالیٰ ان سے کلام کرے گا۔