الفتح الربانی
كتاب الأيمان والنذور— قسم اور نذر کے مسائل
باب الاسْتِشَنَاءِ فِي الْيَمِينِ وَالتَّوْرِيَّةِ وَالرَّجوع إلى النية باب: قسم میں استثنائ، توریہ اور نیت کا اعتبار کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 5319
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمِينُكَ عَلَى مَا يُصَدِّقُكَ بِهِ صَاحِبُكَ وَفِي لَفْظٍ بِمَا يُصَدِّقُكَ بِهِ صَاحِبُكَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیری قسم اس چیز پر ہے، جس پر تیرا ساتھی تیری تصدیق کر رہا ہو۔
وضاحت:
فوائد: … جس آدمی کے مطالبے پر قسم اٹھائی جا رہی ہو، اس کے فہم کے مطابق قسم معتبر ہو گی۔ مثال کے طور پر بعض لوگوں اس نیت سے جھوٹی قسم اٹھا لیتے ہیں کہ ان کے دل میں اس چیز کی نفی مراد ہوتی ہے، بظاہر وہ اثبات کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا یہ انداز باطل اور خلافِ شرع ہے اور شرعی تعلیمات کے مطابق یہ کبیرہ گناہ کے مرتکب ہوں گے، کیونکہ اس معاملے میں اعتبار قسم کا مطالبہ کرنے والے پر ہے، نہ کہ قسم اٹھانے والی کی نیت پر۔