الفتح الربانی
كتاب الأيمان والنذور— قسم اور نذر کے مسائل
باب الاسْتِشَنَاءِ فِي الْيَمِينِ وَالتَّوْرِيَّةِ وَالرَّجوع إلى النية باب: قسم میں استثنائ، توریہ اور نیت کا اعتبار کرنے کا بیان
عَنْ سُوَيْدِ بْنِ حَنْظَلَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجْنَا نُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَنَا وَائِلُ بْنُ حُجْرٍ فَأَخَذَهُ عَدُوٌّ لَهُ فَتَحَرَّجَ النَّاسُ أَنْ يَحْلِفُوا وَحَلَفْتُ أَنَّهُ أَخِي فَخَلَّى عَنْهُ فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ أَنْتَ كُنْتَ أَبَرَّهُمْ وَأَصْدَقَهُمْ صَدَقْتَ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ۔ سیدنا سوید بن حنظلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کرنے کے لیے روانہ ہوئے، ہمارے ساتھ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بھی تھے، راستے میں ان کو دشمن نے پکڑ لیا اور لوگوں نے ان کے حق میں قسم اٹھانے میں حرج محسوس کیا، لیکن میں نے قسم اٹھا دی کہ وہ میرا بھائی ہے، اس وجہ سے دشمن نے ان کو رہا کر دیا، جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور میں نے ساری بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اِن سب میں بڑھ کر قسم کو پورا کرنے والے اور سب سے زیادہ سچے ہو، تم نے سچ بولا ہے، کیونکہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔