الفتح الربانی
كتاب الأيمان والنذور— قسم اور نذر کے مسائل
باب الاسْتِشَنَاءِ فِي الْيَمِينِ وَالتَّوْرِيَّةِ وَالرَّجوع إلى النية باب: قسم میں استثنائ، توریہ اور نیت کا اعتبار کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 5314
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَيُّوبُ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَلَفَ فَاسْتَثْنَى فَهُوَ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءَ أَنْ يَمْضِيَ عَلَى يَمِينِهِ وَإِنْ شَاءَ أَنْ يَرْجِعَ غَيْرَ حِنْثٍ أَوْ قَالَ غَيْرَ حَرَجٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے قسم اٹھائی ، لیکن ساتھ ہی استثناء کر لیا تو اس کو اختیار حاصل ہو گا، اگر وہ چاہے تو اپنی قسم کو نافذ کر دے اور چاہے تو قسم کا تقاضا پورا نہ کرے، اس سے اس کی قسم ٹوٹے گی نہیں، یا فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … استثناء سے مراد اِنْ شَائَ اللّٰہُ (اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا) کہنا ہے، ان لفظوں سے صاف ظاہر ہے کہ قسم کھانے والے نے حتمی قسم نہیں کھائی، گویا وہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ اگر یہ کام کر سکا تو کرے گا، ورنہ سمجھا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے نہیں چاہا، لہذا یہ کام نہ ہو سکا۔