الفتح الربانی
كتاب الأيمان والنذور— قسم اور نذر کے مسائل
بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاسْمِ مِنْ أَسْمَاءِ اللهِ عَزَّوَجَلَّ أَوْ صِفَةٍ مِنْ صِفَاتٍ باب: اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات میں کسی اسم یا صفت کی قسم اٹھانے والے کا بیان
حدیث نمبر: 5313
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَّرَ أُسَامَةَ عَلَى قَوْمٍ فَطَعَنَ النَّاسُ فِي إِمَارَتِهِ فَقَالَ إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ فَقَدْ طَعَنْتُمْ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ الْحَدِيثَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو کچھ لوگوں کا امیر بنایا، لیکن جب لوگوں نے اس کی امارت پر نقد کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اس کی امارت میں طعن کرتے ہو تو تم نے اس کے باپ کی امارت میں بھی طعن کی ہو گی، اللہ کی قسم ہے، بیشک امارت کے لائق ہے۔
وضاحت:
فوائد: … صرف اللہ تعالیٰ کی ذات اور اسماء و صفات کی قسم اٹھائی جا سکتی ہے، اس باب میں بعض مثالیں بیان کی گئی ہیں۔