حدیث نمبر: 5308
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَلَمَّا قَامَ قُمْنَا مَعَهُ فَجَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ أَعْطِنِي يَا مُحَمَّدُ قَالَ فَقَالَ لَا وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فَجَذَبَهُ فَخَدَشَهُ قَالَ فَهَمُّوا بِهِ قَالَ دَعُوهُ قَالَ ثُمَّ أَعْطَاهُ قَالَ وَكَانَتْ يَمِينُهُ أَنْ يَقُولَ لَا وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے تو ہم بھی کھڑے ہو گئے، اتنے میں ایک بدّو آیا اور اس نے کہا: اے محمد! مجھے کچھ دو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اور میں اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھینچا، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خراش بھی آ گئی، صحابہ نے اس کے ساتھ کچھ کرنا چاہا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو چھوڑ دو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو کچھ عطا کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان الفاظ میں بھی قسم ہوتی تھی: لَا وَأَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ (نہیں، اور میں اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں)۔

وضاحت:
فوائد: … ان الفاظ لَا وَأَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ کی تقدیری عبارت یوں بنتی ہے: لَا، اُقْسِمُ بِاللّٰہِ، وَأَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 5308
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ھلال والد محمد لا يعرف، أخرجه ابوداود: 3265، 4775، وابن ماجه: 2093، والنسائي: 8/33، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7869 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7856»