الفتح الربانی
كتاب الأيمان والنذور— قسم اور نذر کے مسائل
بَابُ مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَى الإِسْلَامِ وَمَنْ قَالَ: أَنَّهُ بَرِيءٌ مِنَ الْإِسْلَامِ باب: اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب کی قسم اٹھانے والے اور اس شخص کا بیان جس نے کہا¤کہ وہ اسلام سے بری ہے
حدیث نمبر: 5305
عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَفَ أَنَّهُ بَرِيءٌ مِنَ الْإِسْلَامِ فَإِنْ كَانَ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ وَإِنْ كَانَ صَادِقًا فَلَنْ يَرْجِعَ إِلَى الْإِسْلَامِ سَالِمًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے یوں قسم اٹھائی کہ وہ اسلام سے بری ہو جائے گا، اب اگر وہ جھوٹا ہوا تو اسی طرح ہو جائے گا، جیسے اس نے کہا اور اگر وہ سچا ہوا تو وہ اسلام کی طرف سالم واپس نہیں آئے گا۔
وضاحت:
فوائد: … اس قسم کی صورت یہ ہے کہ کوئی شخص کہے: اگر میں نے فلاں کام کیا ہو تو میں یہودی یا عیسائی وغیرہ ہو جاؤں یا اسلام سے بری ہو جاؤں، جبکہ اس نے وہ کام کیا ہو اور اسے یاد بھی ہو، یا وہ یوں کہے: اگر میں یہ کام کروں تو میں یہودی یا عیسائی ہو جاؤں یا اسلام سے فارغ ہو جاؤں، جبکہ اس کی نیت یہ ہو کہ اس نے فلاں کام کرنا ہے، صرف دھوکہ دہی کے لیے قسم کھاتا ہو۔