الفتح الربانی
كتاب الأيمان والنذور— قسم اور نذر کے مسائل
بَابُ فِى أن الْيَمِينَ لَا تَكُونُ إِلَّا بِاللهِ عَزَّوَجَلَّ وَالنَّهْي عَنِ الْخَلْفِ بِالْآبَاءِ باب: صرف اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھانے اور آباء کی قسم اٹھانے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5298
عَنْهُ أَيْضًا قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ فَحَلَفْتُ لَا وَأَبِي فَهَتَفَ بِي رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي فَقَالَ لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ فَإِذَا هُوَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک غزوے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، میں نے یوں قسم اٹھائی: نہیں، میرے باپ کی قسم! میرے پیچھے سے کسی آدمی نے بآواز بلند کہا: اپنے آباء کی قسمیں نہ اٹھاؤ۔ جب میں نے دیکھا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے۔