الفتح الربانی
كتاب الأيمان والنذور— قسم اور نذر کے مسائل
بَابُ فِى أن الْيَمِينَ لَا تَكُونُ إِلَّا بِاللهِ عَزَّوَجَلَّ وَالنَّهْي عَنِ الْخَلْفِ بِالْآبَاءِ باب: صرف اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھانے اور آباء کی قسم اٹھانے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5296
عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَقُولُ وَأَبِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ فَإِذَا حَلَفَ أَحَدُكُمْ فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ أَوْ لِيَصْمُتْ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمَا حَلَفْتُ بِهَا بَعْدُ ذَاكِرًا وَلَا آثِرًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یوں کہتے ہوئے سنا کہ میرے باپ کی قسم ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو اپنے آباء کی قسمیں اٹھانے سے منع کرتا ہے، جب کوئی آدمی قسم اٹھائے تو وہ اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھائے، یا پھر خاموش رہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے بعد نہ میں نے جان بوجھ کر ایسی قسم اٹھائی اور نہ کسی کا بات نقل کرتے ہوئے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھانے کا کم از کم مرتبہ اباحت ہے اور اکثر اہل علم کی بھی یہی رائے ہے، لہذا ان لوگوں کا رویہ ٹھیک نہیں ہے، جو اللہ تعالیٰ کی قسم کے مطالبے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں۔