الفتح الربانی
كتاب الأيمان والنذور— قسم اور نذر کے مسائل
بَابُ فِى أن الْيَمِينَ لَا تَكُونُ إِلَّا بِاللهِ عَزَّوَجَلَّ وَالنَّهْي عَنِ الْخَلْفِ بِالْآبَاءِ باب: صرف اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھانے اور آباء کی قسم اٹھانے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5293
عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ قَالَ كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي حَلْقَةٍ فَسَمِعَ رَجُلًا فِي حَلْقَةٍ أُخْرَى وَهُوَ يَقُولُ لَا وَأَبِي فَرَمَاهُ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بِالْحَصَى وَقَالَ إِنَّهَا كَانَتْ يَمِينَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَنَهَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا وَقَالَ إِنَّهَا شِرْكٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سعد بن عبیدہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک مجلس میں سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا، جب انھوں نے دوسری مجلس میں بیٹھے ہوئے ایک آدمی کو یوں کہتے ہوئے سنا: نہیں، میرے باپ کی قسم ہے، تو انھوں نے اس کو کنکری ماری اور کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی اسی طرح قسم اٹھاتے تھے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ شرک ہے۔