الفتح الربانی
كتاب الأيمان والنذور— قسم اور نذر کے مسائل
بَابُ فِى أن الْيَمِينَ لَا تَكُونُ إِلَّا بِاللهِ عَزَّوَجَلَّ وَالنَّهْي عَنِ الْخَلْفِ بِالْآبَاءِ باب: صرف اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھانے اور آباء کی قسم اٹھانے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5292
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَ حَالِفًا فَلَا يَحْلِفْ إِلَّا بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَكَانَتْ قُرَيْشٌ تَحْلِفُ بِآبَائِهَا فَقَالَ لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی قسم اٹھانا چاہے، وہ صرف اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھائے۔ چونکہ قریشی لوگ اپنے آباء کی قسم اٹھاتے تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اپنے آباء کی قسم نہ اٹھایا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … جس چیز کی قسم اٹھائی جائے، اس کو محلوف بہ کہتے ہیں، دراصل قسم سے محلوف بہ کی تعظیم لازم آتی ہے جبکہ عظمت اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے، اس لیے غیر اللہ کی قسم اٹھانے سے منع کر دیا گیا ہے، رہا مسئلہ اللہ تعالیٰ کا تو وہ اپنی مخلوقات میں سے جس چیز کی چاہے، قسم اٹھاتا ہے، اس کا مقصود یہ ہوتا ہے کہ اس چیز کے شرف پر دلالت کی جائے۔