الفتح الربانی
كتاب العتق— (غلاموں اور لونڈیوں کی) آزادی کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي وَلَاءِ الْمُعْتَقِ وَلِمَنْ يَكُونُ باب: آزاد شدہ کی ولاء کا بیان، نیز وہ کس شخص کے لیے ہو گی
حدیث نمبر: 5290
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ بَرِيرَةَ أَتَتْهَا تَسْتَعِينُهَا وَكَانَتْ مُكَاتَبَةً فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَيَبِيعُكِ أَهْلُكِ فَأَتَتْ أَهْلَهَا فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُمْ فَقَالُوا لَا إِلَّا أَنْ تَشْتَرِطَ لَنَا وَلَاءَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا ان کے پاس آئیں، جبکہ وہ مکاتَب تھیں، سیدہ نے ان سے کہا: کیا تیرے مالک تجھے فروخت کر دیں گے؟ وہ اپنے مالکوںکے پاس گئی اور ان کو یہ بات بتلائی، انھوں نے کہا: نہیں، ہم ایسا نہیں کریں گے، ہاں اگر وہ ہمارے لیے ولاء کی شرط لگا لیں تو ٹھیک ہے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کی بات کا پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! تم اس کو خرید کر آزاد کر دو، ولاء تو صرف آزاد کنندہ کی ہوتی ہے۔