الفتح الربانی
كتاب العتق— (غلاموں اور لونڈیوں کی) آزادی کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُكَاتَبِ باب: مُکاتَب کا بیان
حدیث نمبر: 5284
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُوَدَّى الْمُكَاتَبُ بِقَدْرِ مَا أَدَّىترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعلی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مکاتَب جتنی ادائیگی کر چکا ہو، اس کے حساب سے اس کو دیت دی جائے گی۔
وضاحت:
فوائد: … کیا مکاتبت کے بعد مکاتَب غلام بیچا جا سکتا ہے؟ ظاہر یہ ہے کہ یہ ایک معاہدہ ہے، جسے توڑا نہیں جا سکتا، الا یہ کہ وہ غلام راضی ہو، جسے اس معاہدے کا مفاد ہے اور واضح بات ہے کہ وہ تبھی راضی ہو گا، اگر اسے فوری آزادی کا یقین دلا دیا جائے، ایسی صورت میں جب معاہدے سے بڑھ کر غلام کو مفاد حاصل ہو رہا ہو اور دونوں فریق راضی ہوں تو اسے فوری آزادی کے لیے بیچنے میں کوئی حرج نہیں، جیسا کہ حدیث نمبر (۵۲۸۹) میں ذکر ہے، ہاں مالکان اپنے مفاد کی خاطر اس کی مرضی کے بغیر اسے کسی دوسرے کو نہیں بیچ سکتے، کیونکہ یہ غدر اور وعدہ خلافی ہے، جس میں حکومت مداخلت کر سکتی ہے، جیسا کہ اسی حدیث کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مالکان کی شرط کو مردود قرار دیا۔