حدیث نمبر: 5279
عَنْ عَمْرَةَ قَالَتْ اشْتَكَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَطَالَ شَكْوَاهَا فَقَدِمَ إِنْسَانٌ الْمَدِينَةَ يَتَطَبَّبُ فَذَهَبَ بَنُو أَخِيهَا يَسْأَلُونَهُ عَنْ وَجَعِهَا فَقَالَ وَاللَّهِ إِنَّكُمْ تَنْعَتُونَ نَعْتَ امْرَأَةٍ مَطْبُوبَةٍ قَالَ هَذِهِ امْرَأَةٌ مَسْحُورَةٌ سَحَرَتْهَا جَارِيَةٌ لَهَا قَالَتْ نَعَمْ أَرَدْتُ أَنْ تَمُوتِي فَأُعْتَقَ قَالَ وَكَانَتْ مُدَبَّرَةً قَالَتْ بِيعُوهَا فِي أَشَدِّ الْعَرَبِ مَلَكَةً وَاجْعَلُوا ثَمَنَهَا فِي مِثْلِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ عمرہ بیان کرتی ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیمار ہو گئیں اور ان کی بیماری لمبی ہو گئی، مدینہ منورہ میں ایک ایسا طبیب آیا، جو طب کی پوری واقفیت نہیں رکھتا تھا، سیدہ کے بھتیجے اس کے پاس گئے اور ان کی تکلیف کا ذکر کیا، اس نے کہا: اللہ کی قسم! تم نے اس خاتون کی جو کیفیت بیان کی ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس پر جادو کیاگیا ہے اور جادو بھی اس کی لونڈی نے کیا ہے، جب انھوں نے اس لونڈی سے پوچھا تو اس نے کہا: ہاں، میں نے جادو کیا ہے، میرا ارادہ یہ تھا کہ سیدہ فوت ہو جائیں گی اور میں آزاد ہو جاؤں گی۔ دراصل سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس لونڈی کو مُدَبّر بنایا ہوا تھا، پھر سیدہ نے کہا: اس لونڈی کو ایسے شخص کے ہاتھوں فروخت کرو، جو اپنی لونڈیوں کے حق میں سب سے سخت ہے اور اس کی قیمت کو اسی کی طرح کی لونڈی میں صرف کر دو۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العتق / حدیث: 5279
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ھذا الاثر صحيح، أخرجه مالك في المؤطا : 2782، وعبدالرزاق: 18749، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24126 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24627»