الفتح الربانی
كتاب العتق— (غلاموں اور لونڈیوں کی) آزادی کے مسائل
بَابُ حُكْمِ مَنْ أَعْتَقَ شِرَكًا لَهُ فِي عَبْدِ أَوْ كَانَ يَمْلِكُ عَبْدًا فَاعْتَقَ بَعْضَهُ باب: کسی غلام میں اپنے حصے کو آزاد کر دینے والے یا اپنے غلام کا بعض حصہ¤آزاد کر دینے والے شخص کا بیان
حدیث نمبر: 5274
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنْ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ فَعَلَيْهِ جَوَازُ عِتْقِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ جس نے کسی غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا تو سارے غلام کی آزادی اس پر ہو گی، بشرطیکہ اس کے پاس مال ہو۔
وضاحت:
فوائد: … اگر کوئی آدمی کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیتا ہے اور اس کے پاس مکمل غلام کو آزاد کرنے کا مال ہے تو اسی کے مال سے غلام کو آزاد کر دیا جائے گا، تاکہ وہ مکمل فضیلت حاصل کر لے۔