الفتح الربانی
كتاب العتق— (غلاموں اور لونڈیوں کی) آزادی کے مسائل
بَابُ حُكْمِ مَنْ أَعْتَقَ شِرَكًا لَهُ فِي عَبْدِ أَوْ كَانَ يَمْلِكُ عَبْدًا فَاعْتَقَ بَعْضَهُ باب: کسی غلام میں اپنے حصے کو آزاد کر دینے والے یا اپنے غلام کا بعض حصہ¤آزاد کر دینے والے شخص کا بیان
حدیث نمبر: 5272
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ حَوْشَبٍ حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ كَانَ لَهُمْ غُلَامٌ يُقَالُ لَهُ طَهْمَانُ أَوْ ذَكْوَانُ فَأَعْتَقَ جَدُّهُ نِصْفَهُ فَجَاءَ الْعَبْدُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تُعْتَقُ فِي عِتْقِكَ وَتُرَقُّ فِي رِقِّكَ قَالَ وَكَانَ يَخْدِمُ سَيِّدَهُ حَتَّى مَاتَ وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَكَانَ مَعْمَرٌ يَعْنِي ابْنَ حَوْشَبٍ رَجُلًا صَالِحًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ امیہ کا دادا سیدنا عمرو بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان لوگوں کو طہمان یا ذکوان نامی ایک غلام تھا، دادا نے اپنا حصہ آزاد کر دیا، وہ حصہ نصف غلام تھا، جب وہ غلام، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، تو اپنی آزادی کے بقدر آزاد ہو چکا ہے اور اپنی غلامی کے بقدر ابھی تک غلام ہے۔ پھر وہ اپنے مالک کی خدمت کرتا رہا، یہاں تک کہ وہ فوت ہو گیا۔ عبد الرزاق راوی نے کہا: معمر بن حوشب نیک آدمی تھے۔
وضاحت:
فوائد: … فوت ہونے والے سے مراد غلام بھی ہو سکتا ہے اور اس کا مالک بھی۔