الفتح الربانی
كتاب العتق— (غلاموں اور لونڈیوں کی) آزادی کے مسائل
بَابُ حُكْمِ مَنْ أَعْتَقَ شِرَكًا لَهُ فِي عَبْدِ أَوْ كَانَ يَمْلِكُ عَبْدًا فَاعْتَقَ بَعْضَهُ باب: کسی غلام میں اپنے حصے کو آزاد کر دینے والے یا اپنے غلام کا بعض حصہ¤آزاد کر دینے والے شخص کا بیان
حدیث نمبر: 5271
عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ هُذَيْلَ أَعْتَقَ شَقِيصًا لَهُ مِنْ مَمْلُوكٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هُوَ حُرٌّ كُلُّهُ لَيْسَ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى شَرِيكٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو ملیح اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ بنو ہذیل کے ایک آدمی نے ایک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ سارے کا سارا آزاد ہو گیا ہے، اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … دوسری روایات میں وضاحت ہے کہ جس آدمی نے اپنا حصہ آزاد کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے باقی قیمت بھی اس کے ذمہ قرار دی تھی۔