الفتح الربانی
كتاب الطهارة— طہارت کے ابواب
الْفَصْلُ الثَّالِثُ فِيمَا يَجُوزُ الِاسْتِجْمَارُ بِهِ وَمَا لَا يَجُوزُ باب: ان چیزوں کا بیان جن سے استنجا کرنا جائز ہے اور جن سے ناجائز ہے
حدیث نمبر: 527
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) فَقَالَ: ((ائْتِنِي بِشَيْءٍ أَسْتَنْجِي بِهِ وَلَا تُقْرِبْنِي حَائِلًا وَلَا رَجِيعًا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے لیے کوئی ایسی چیز لے آؤ، جس سے میں استنجا کروں اور کسی بوسیدہ ہڈی اور لید کو میرے قریب نہ کرو۔“
وضاحت:
فوائد: … حَائِل کا معنی بدل جانے والی چیز ہے، یہاں اس سے مراد وہ ہڈی ہے، جو اصلی حالت سے تبدیل ہو کر بوسیدہ ہو چکی ہو۔