الفتح الربانی
كتاب العتق— (غلاموں اور لونڈیوں کی) آزادی کے مسائل
بَابُ حُكْمِ مَنْ أَعْتَقَ شِرَكًا لَهُ فِي عَبْدِ أَوْ كَانَ يَمْلِكُ عَبْدًا فَاعْتَقَ بَعْضَهُ باب: کسی غلام میں اپنے حصے کو آزاد کر دینے والے یا اپنے غلام کا بعض حصہ¤آزاد کر دینے والے شخص کا بیان
حدیث نمبر: 5267
عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ الْعَبْدُ بَيْنَ اثْنَيْنِ فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ فَإِنْ كَانَ مُوسِرًا قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةٌ لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ ثُمَّ يُعْتَقُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب دو آدمیوں کا مشترک غلام ہو اور ایک آدمی اپنا حصہ آزاد کر دے تو اگر وہ آزاد کنندہ مالدار ہوا تو اس پر غلام کی ایسی قیمت لگائی جائے گی، جس میں نہ کمی کی جائے گی اور نہ زیادتی اور پھر اس کو آزاد کر دیا جائے گا۔