الفتح الربانی
كتاب العتق— (غلاموں اور لونڈیوں کی) آزادی کے مسائل
بَابُ حُكْمِ مَنْ أَعْتَقَ شِرَكًا لَهُ فِي عَبْدِ أَوْ كَانَ يَمْلِكُ عَبْدًا فَاعْتَقَ بَعْضَهُ باب: کسی غلام میں اپنے حصے کو آزاد کر دینے والے یا اپنے غلام کا بعض حصہ¤آزاد کر دینے والے شخص کا بیان
حدیث نمبر: 5266
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ فِي إِنْسَانٍ أَوْ مَمْلُوكٍ كُلِّفَ عِتْقَ بَقِيَّتِهِ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ يُعْتِقُهُ بِهِ فَقَدْ جَازَ مَا عَتَقَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا تو اس آدمی کو اس غلام کی ساری قیمت کا مکلف ٹھہرایا جائے گا، لیکن اگر اس کے پاس اتنا مال نہ ہو کہ وہ سارے غلام کو آزاد کر سکے تو اتنا حصہ تو آزاد ہو جائے گا، جتنا وہ کرے گا۔ ‘